پاکستانی معاشرہ اور سیکس ایجوکیشن کی ضرورت
بی بی سی نے ایک خبر شئیر کی کہ بیوی کو غیر فطری سیکس پر مجبور کرنے پر ایک خاتون کی شکایت پر شوہر کو دس سال کی قید سزا سنائی گئ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات شائد چار پانچ سال قبل کراچی کی ایک لڑکی شادی کی پہلی رات مرگئ۔ گھر والے افسوس کا اظہار کررہے شوہر کو بھی میڈیا نے کور کیا شوہر بتا رہا تھا کہ پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ مرگئ ہے۔ نا گھر والوں نے کیس آگے بڑھایا نہ شوہر پر قتل کا الزام لگایا۔ ایک چھوٹی سی بات بتائی شوہر نے کہ اسکی سانس رک گئ تھی۔ اب مزید آپ خود سمجھیں۔ ایک پیرامیڈیکل اسٹاف کے رکن کے مطابق روزانہ رات کو اسپتال میں کئی خواتین نہایت غیر حالت میں لائی جاتی ہیں جن کو کبھی ٹانکے لگانے پڑتے ہیں کبھی انکا خون نہیں رک رہا ہوتا ہے ، کچھ نہیں کچھ نہیں تو کچھ خواتین بیمار ہونے کا جھوٹا ناٹک کرتی ہیں۔ جی ناٹک کرتی ہیں بیہوش ہورہی ہوں وغیرہ جس پر وہاں موجود ڈاکٹر یا اسٹاف محض ان خاتون کو بستر پر لٹا کر آرام کرنے کا مشورہ دیتے چلے جاتے ہیں۔ وہ خواتین ساری رات اسپتال میں سو کر گزارتی ہیں۔ وجہ؟ اس جنسی درندے سے تھوڑی دیر کی نجات جسے یہ غلیظ معاشرہ شوہر بنا کر اس کے سر پر تھوپ د...