hum lartay kiun nahin?
ہم لڑتے کیوں نہیں؟ 1998 میں جب بھارت نے اپنی ایٹمی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا تب اسکا لہجہ تند اسکا انداز سخت ہو چلا تھا بات صرف کشمیر تک نہیں رہ گئ تھی بلکہ دھمکیوں میں پاکستان کو فتح تک کرنے کا اشارہ دیا جانے لگا تھا۔۔ ایسے کڑے وقت میں پاکستان کی جمہوری حکومت نے پوری دنیا کا دبائو اور مخالفت برداشت کرتے ہوئے ایٹمی صلاحیت ہونے کا اعلان کیا تھا۔ بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے یورپی ممالک اس بات کو سنجیدگی سے لینے لگے کہ اب دو ایٹمی قوتوں کے درمیان سب تصفیہ طلب مسلوں کو حل کیا جائے ایسے وقت میں جب بھارت کا اس وقت کا وزیر اعظم باجپائی مینار پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ ہم پاکستان کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اب مثبت بات چیت کے زریعے ہم مسلہ کشمیر کو حل کرتے ہیں۔ اس سب کے ساتھ اچانک کارگل جنگ شروع ہو جاتی ہے پاکستان دشمن ملک کے علاقے فتح کر لیتا ہے بھارت صاف کہتا ہے اگر پاکستان نے اپنی فوجیں واپس نا بلائیں تو جنگ شروع ہو جائے گی۔ جنگ نا ہوئی۔۔۔ مگر جنگ ہارنے کی زمہ داری ڈالی جانے لگی۔۔ کوئی زمہ دار کسی کی غیر زمہ داری کو ٹھہراتا رہا کوئی زمہ دار کسی کو بزدلی دکھانے پر ٹھہراتا رہ...