مارچ تو اچھے ہوتے ہیں march tu achay hotay hain
مستقل نام : ایک اور رائے کالم کا نام : مارچ تو اچھے ہوتے ہیں کالم نگار : نازیہ زیدی اکتوبرکے آخر میں جب آپکے سمسٹر کا مڈ ہوتا ہےاور یونیورسٹیاں زبردستی آپ سے امتحان لینے پر تل جاتی ہیں کوئی سوچ سکتا ہے اس ملنے والی اتاہ خوشی کو جو طلباء امتحان ٹل جانے پر محسوس کرتے ہیں۔ ویسے تو میں طلباء کے سیاسی معاملات اپنے ہاتھوں میں لینے یعنی موبائل فون پر اسٹیٹس شئیرنگ اور دھڑا دھڑ کمنٹ میں مخالفوں کو گالیاں لکھنے کے خلاف ہوں کیونکہ مجھے یہ سب پڑھنے کو ملتا ہے اور مجھے نت نئی رائے بنانی پڑ جاتی ہے مگر پھر بھی میں سیاسی جماعتوں کے طلباء کے معاملات اپنے ہاتھوں میں لے لینے کی پرزور مزمت نہیں کر پا رہی۔ جب آپکے امتحانات سر پر ہوں اور وہ ٹل جائیں تو ایسے سیاسی مارچ دھرنے تو اچھے ہوتے ہیں۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی مارچ و دھرنوں کی۔ اس سے قبل بھی اسلام آباد کے طلباء مارچ دھرنے کے ثمرات سے لطف اندوز ہو چکےہیں مگر ماننے والی بات ہے یہ مارچ جو مولانا لا رہے کچھ الگ ہے۔ کیسے ؟ بھئی جب 2014 میں خان صاحب نے مارچ کیا حکومت کہ بنیادیں ہلانے کی ناکام کوشش کے بعد ایک نہ دو ایک سوچھبیس دن دھرنا پھر د...