تیری گلیاں اور گالیاں
میرا دوسرا کالم 🤩 مستقل کالم عنوان : ایک اور رائے کالم عنوان : تیری گلیاں اور گالیاں مصنفہ : نازیہ زیدی گالی فنون لطیفہ کی اہم شاخ ہے ۔ یہ انسان کی حس لطیف کی تسکین کیلئے ایجاد کی گئ تھی۔یہ انسان کے غم و غصے کی وہ ترجمان کیفیت ہے جس سے انسان کے اخلاق و کردار کا تعین ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر گالی اس لفظ بات یا صفت کو کہتے ہیں جو دینے والا آپ میں دیکھ کر آپکو غصے میں کہتا اور گالی کھانے والا اپنے آپ میں دیکھ کر یہ سمجھتے ہوئے کہ ہاں بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی بھڑک اٹھتا۔۔ مثال کے طور پر عموما غصے میں لوگ کسی انسان کو کتا کہہ ڈالتے ہیں ، کتا کہلایا جانے والا انسان جوابا بھونک ضرور اٹھتا مگر سچی بات کبھی میں نے کسی انسان کو کسی کو غصے میں انسان کہتے نہیں سنا۔اگر کسی کو کہہ دو تو وہ برا بھی نہیں مانتا ویسے برا ماننے کی صفت بھی انسانی ہی ہے کسی کتے کو انسان کہہ بھی دیں تو جوابا وہ اسی طرح بھونکے گا جیسے کتا کہلائے جانے پر بھونکتا ہے۔ یعنی کتے کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اسے انسان کہا یا سمجھا جائے۔ آزمائش شرط ہے گالی دینا عموما گالی دینے والے کا ہی کام ہوتا گالی دینا ہر کسی کے بس ...