انگریزی گالیوں کا استعمال۔۔ angraizi gaalian
رواج جو آج کل بہت تیزی سے پھیل رہا وہ ہے انگریزی گالیوں کا استعمال۔۔ گالی گالی ہی ہے چاہے اردو میں دیں پنجابی میں دیں یا انگریزی میں۔۔ اور گالی دینے کی شدید ممانعت ہے اسلام میں۔ حضرت علی کرم اللہ وجیہہ کا فرمان ہے جو انسان ایک گالی دیتا ہے اس گالی کے بدلے اسکی قبر میں ایک بچھو کا اضافہ ہو جاتا ہے۔۔ سوچیں ہم نے کتنی گالیاں منہ پر چڑھا رکھی ہیں تکیہ کلام بنا لیا ہے زومعنی جملے بول کر اردو کے اچھے صاف جملوں کو کہنا ترک کر دیا ہے۔۔ ہم اردو میں ڈالنا اور نکالنا سادہ ترین الفاظ میں اپنی بات سمجھانے کیلئے استعمال کرتے اب ان کا استعمال کرو تو لوگ آپکے منہ پر ہنسیں گے زو معنی جملے بول کر مزاق اڑائیں گے۔۔ یعنی ہم نے اپنا ہنسنے کا معیار یہ کر لیا ہے کہ غلیظ گفتگو پر ہنسیں گے۔۔ اس کی مثال ہمارے یو ٹیوبر آپکے سامنے ہیں۔ گندی فحش گالیاں استعمال کر رہے ان پر ہنس رہے اور ایسی زبان کے لوگوں کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں۔۔ ہم انکے گناہ میں شریک ہو رہے ہیں۔۔ اور یہ سب جو جا بجا ہم نے اپنے اوپر پڑوسی ملک کا مواد مسلط کر لیا ہے اسکا نتیجہ ہے جو موضوعات ہم گھر میں زکر کرنا بھی پسند نہیں کرتے تھے اب ...