sex education and our society
سیکس ایجوکیشن جیسی کسی چیز کا نہ ہونا ہمارے معاشرے کا وہ المیہ ہے جس نے بہت بگاڑ پیدا کردیا ہے اور ہم مزید بگاڑ کو پیدا ہوتے دیکھ کر بھی اس موضوع پر بات کرنے سے کترا رہے ہیں . دن بہ دن ریپ اور بچوں سے زیادتی کے کیسز عام ہوتے جا رہے ہیں وہاں طلاق اور شادی ٹوٹنا وہ بھی ان وجوہات کی بنا پر جن پر لوگ نہ کھل کر بات کر رہے ہیں نہ شرم کا نام لے کر اس کے تدارک کی کوئی کوشش کر رہے ہیں. سب سے غلط رویہ اس معاشرے کا بس چپ رہو کہنا ہے .پاکستان جیسا ملک جہاں کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ہم نوجوانوں کو یوں نظر انداز کرتے ہیں جیسے وہ ہیں ہی نہیں. ہماری تفریحی صنعت سونے پر سہاگہ کا کام کر رہی ہے. تشدد ریپ بچوں پر ستم شوہر کی بیوفائی یہ سب موضوعات اس وقت پرائم ٹائم میں دیکھیے جا رہے ہیں جب پورا گھر بیٹھ کر ٹی وی دیکھتا ہے. کچھ باتیں کھل کر کچھ چھپا کر یا آدھی ادھوری ڈراموں کے ذریعے دیکھا دی جاتی ہیں مگر صحیح اور غلط کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جاتا ہے . ڈرامے دیکھو تو محبّت ایک لافانی جذبہ دکھایا جاتا ہے اب وہ ٹین ایجر جو نہ اب بچوں میں شمار ہوتے ہیں نہ ہی ابھی اتنے بڑے ہیں کہ صحیح غلط کا فیصل...