ملک میں ترقی شروع ہو گئ ہے۔taraqi woh bhi taraki hui
آج ایک کہانی سناتی ہوں ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک شخص ریڑھی میں گدھا جوتے سامان لادے جا رہا تھا۔ ریڑھی کے دو کی بجائے ایک پہیہ تھا ۔ دوسرا پہیہ سامان کے ساتھ اوپر رکھا دور سے نگاہ میں آرہا تھا۔ وہ شخص ریڑھی کے دوسرے پہیئے کی جانب سے خود جتا ہوا آدھا بوجھ اٹھائے تھا۔۔ کسی نے دیکھا تو تعجب سے پوچھا کیا پہیہ خراب ہے؟ وہ شخص بولا نہیں ہرگز نہیں۔ کسی نے مزید حیرانی سے پوچھا تو پھر اسے سامان کے ساتھ اوپر کیوں لاد رکھا ہے اسکی جگہ اسے لگاتے کیوں نہیں۔۔ اس شخص نے کمال سادگی سے جواب دیا۔ جو کام میں خود کر سکتا ہوں اسکیلئے پہیہ کیوں لگائوں۔ ؟؟؟ کسی نے پھر اسے بے وقوف کہا اور آگے بڑھ گیا۔ اب آج کی کہانی سنیئے۔ یقین کیجئے جب نیوز فیڈ میں ٹرولنگ کرتے لوگوں کو اس خبر پر مضحکہ اڑاتے دیکھ کر میں حقیقتا یہی سمجھی کہ نیوز نہیں بلکہ خود ہی بنائی گئ کوئی مزاحیہ تصویر ہے مگر نہیں جناب یہ واقعی بیان ہے ہمارے سپہ سالار کا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترقی ہے کونسی۔ ۔ معاشی ترقی جس میں ٹماٹر کی قیمت ڈالر سے ذیادہ ہے۔ تعلیمی ترقی جس میں تعلیم کا بجٹ کاٹ کر کم کر دیا گیا ہے؟جغ...