کاکروچ جین زی کا انجام اور مودی کی آمرانہ طرز حکومت
انڈیا میں کاکروچ مار اسپرے کے بعد وہ جین زی جس کے سواگ کے سوشل میڈیا پر چرچے تھے ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگ رہی ہے۔ رج کے ٹھکائی کی ہے جین زی کی پولیس نے احتجاج کے دوران اور تصویروں سے ڈیٹا نکال کر گھر گھر جا کر گرفتاریاں کرکے سافٹ وئیر اپڈیٹ کیا ہے۔ پورا ڈیش ڈرامہ ایک استعفی کیلئے تھا؟ بھائی شکل بدلی ہے اگلا بھی کوئی آئین اسٹائن وزیر تعلیم نہیں آیا۔ حکومت ہلی بھی نہیں۔ مودی کو گالیاں دینے والے پٹ رہے ہیں۔ مسلم طلباء تو سیدھا اٹھا کر غائب کیئے ہیں۔ انکے والدین پہلے ثابت کریں کہ پولیس لے گئ انہیں۔۔
امام حسین ع کا قول ہے ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھو گے اتنی بڑی قربانی دینی پڑے گی۔ مودی ایک دہائی سے ذائد عرصے سے حکمران ہے۔ ایک ایک محکمے میں اپنی مرضی کا بندہ بٹھاکر انتظامی ڈھانچہ اپنے اختیار میں لے رکھا اب اسکو ہٹانے کیلئے ایسے بچوں کو پرجوش کرکے نہیں ہٹایا جاسکتا۔
اچھا خاصا چول ڈراپ سین ہو رہا اس ڈرامے کا۔ بھارت کی جمہوریت کے دعوے دھرے رہ گئے۔ مانی پور میں احتجاج پیٹ کر مار کر ختم کرایا اوپن فائر کیئے ہیں کاکروچوں پر، سرینگر میں روزانہ کی بنیاد پر ہندو بسائے جا رہے ہیں اسکی مقبوضہ حیثیت تو ختم ہے ہی وہاں اب مسلمان اقلیت میں جانے والے ہیں، ناگالینڈ کئی سال ہوئے بھارت سے الگ ہونے کی قرارداد منظور کرچکا ہے وہاں کے لوگ خود کو الگ ملک کا باشندہ مانتے ہیں مگر دنیا کے سامنے اس دعوے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ نہ اپنا الگ پاسپورٹ بنا کر اپنے شہری کسی دوسرے شہر کیا دوسرے ملک بھیج سکتے ہیں نہ اتنے مضبوط ہیں کہ بھارتی فوج کا مقابلہ کرسکیں ۔ خالصتان تحریک بس اتنئ ہی مضبوط ہے کہ پنجابی آگئے کہہ کر شو شا سے کاکروچوں کے احتجاج میں شامل ہوئے اب واپس کھو گئے ہیں۔سکھوں کی اکثریت والے پنجاب میں آج بھی بھارت ہی قابض ہے۔۔
جہاں رنگ نسل ذات پات کی تقسیم اپنے ہی مذہب کے لوگوں میں ہو وہاں پورا ملک ایک ہو کر کسی حکومت کے خلاف تحریک چلا سکتاہے ؟ ہاں انکی چھوٹی چھوٹی ریاستیں الگ ہونا چاہتی ہیں مگر جب تک انہیں باہر سے سپورٹ نہ ملے یہ ممکن نہیں ۔ یہی حال پاکستان میں ہے ۔
ہم نے چار سال عمرانی دور میں دیوالیہ کی نہج تک پہنچ کر دیکھا ہے۔ کے پی کے کا بدترین حال دیکھا ہے۔ اس چار سال میں عمرانی حکومت کا بھوت عوام کے سر سے اترتے دیکھا ہے۔ واحد عمران خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پارلیمنٹ کی عدم اعتماد کی تحریک نے آئینی طریقے سے برطرف کیا گیا وزیراعظم ہے۔ ورنہ احتجاج کر کرکے نہ عمران خان حکومت ہلا سکا تھا نہ عمران خان کی حکومت ہلائی جا سکی ۔
حقیقت بس اتنی ہے کہ نہ ایسے ناچ گا کے انقلاب آتا ہے نہ ہی عوام سے دیس بیس روپے ڈیم فنڈ کے نام پر پیسے لیکر ڈیم بنتا ہے۔ نا ایک چند لاکھ کی آبادی کے صوبے میں جہاں ہر دو کلومیٹر پر زبان نسل رنگ ثقافت بدل کر نیا سردار قابض حکومت کررہا ہے وہاں ایک یا دو سردار طالبان کے ساتھ مل کر پورے صوبے پر قبضے کے خواب دیکھ سکتے نہ ہی ایک ملک کے ساتھ چوہتر سال جڑ کر سب سہولتیں لیکر عیاشی والی زندگی جی کر اچانک چار لوگ انڈیا سے پیسے لیکر الگ ملک کی تحریک چلا سکتے۔ نہ ہی خود کو جمہوریت کے شہید کہہ کر صوبے کے عوام کو خون کے آنسو رلاتے رہنے کے باوجود بلیک میلنگ کر کر زبردستی حکمران بنا رہا جاسکتا ہے۔ خاص کر اگر ملک ایٹمی قوت ہو۔ جمہوریت ہو اور دفاع اتنا مضبوط ہو کہ اسرائیل اور انڈیا کو دھول چٹا دے۔
جن کو یہ نشے چڑھے انکا اس سے عبرت ناک انجام منتظر ہے۔ باقی جس کو جو برا لگنا زور سے برا لگے۔
کراچی سے لیکر کشمیر تک گوادر سے لیکر سرینگر تک پاکستان ایک ملک ہے اور انشااللہ رہے گا۔ چوہے مار مہم زور و شور سے جاری رہے گی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں