اشاعتیں

اگست, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پاکستانی معاشرہ اور سیکس ایجوکیشن کی ضرورت

 بی بی سی نے ایک خبر شئیر کی کہ بیوی کو غیر فطری سیکس پر مجبور کرنے پر ایک خاتون کی شکایت پر شوہر کو دس سال کی قید سزا سنائی گئ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات شائد چار پانچ سال قبل کراچی کی ایک لڑکی شادی کی پہلی رات مرگئ۔ گھر والے افسوس کا اظہار کررہے شوہر کو بھی میڈیا نے کور کیا شوہر بتا رہا تھا کہ پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ مرگئ ہے۔  نا گھر والوں نے کیس آگے بڑھایا نہ شوہر پر قتل کا الزام لگایا۔ ایک چھوٹی سی بات بتائی شوہر نے کہ اسکی سانس رک گئ تھی۔ اب مزید آپ خود سمجھیں۔  ایک پیرامیڈیکل اسٹاف کے رکن کے مطابق روزانہ رات کو اسپتال میں کئی خواتین نہایت غیر حالت میں لائی جاتی ہیں جن کو کبھی ٹانکے لگانے پڑتے ہیں کبھی انکا خون نہیں رک رہا ہوتا ہے ، کچھ نہیں کچھ نہیں تو کچھ خواتین بیمار ہونے کا جھوٹا ناٹک کرتی ہیں۔ جی ناٹک کرتی ہیں بیہوش ہورہی ہوں وغیرہ جس پر وہاں موجود ڈاکٹر یا اسٹاف محض ان خاتون کو بستر پر لٹا کر آرام کرنے کا مشورہ دیتے چلے جاتے ہیں۔ وہ خواتین ساری رات اسپتال میں سو کر گزارتی ہیں۔ وجہ؟ اس جنسی درندے سے تھوڑی دیر کی نجات جسے یہ غلیظ معاشرہ شوہر بنا کر اس کے سر پر تھوپ د...

کاکروچ جین زی کا انجام اور مودی کی آمرانہ طرز حکومت

 انڈیا میں کاکروچ مار اسپرے کے بعد وہ جین زی جس کے سواگ کے سوشل میڈیا پر چرچے تھے ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگ رہی ہے۔ رج کے ٹھکائی کی ہے جین زی کی پولیس نے احتجاج کے دوران اور تصویروں سے ڈیٹا نکال کر گھر گھر جا کر گرفتاریاں کرکے سافٹ وئیر اپڈیٹ کیا ہے۔ پورا ڈیش ڈرامہ ایک استعفی کیلئے تھا؟ بھائی شکل بدلی ہے اگلا بھی کوئی آئین اسٹائن وزیر تعلیم نہیں آیا۔ حکومت ہلی بھی نہیں۔ مودی کو گالیاں دینے والے پٹ رہے ہیں۔ مسلم طلباء تو سیدھا اٹھا کر غائب کیئے ہیں۔ انکے والدین پہلے ثابت کریں کہ پولیس لے گئ انہیں۔۔  امام حسین ع کا قول ہے ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھو گے اتنی بڑی قربانی دینی پڑے گی۔ مودی ایک دہائی سے ذائد عرصے سے حکمران ہے۔ ایک ایک محکمے میں اپنی مرضی کا بندہ بٹھاکر انتظامی ڈھانچہ اپنے اختیار میں لے رکھا اب اسکو ہٹانے کیلئے ایسے بچوں کو پرجوش کرکے نہیں ہٹایا جاسکتا۔  اچھا خاصا چول ڈراپ سین ہو رہا اس ڈرامے کا۔ بھارت کی جمہوریت کے دعوے دھرے رہ گئے۔ مانی پور میں احتجاج پیٹ کر مار کر ختم کرایا اوپن فائر کیئے ہیں کاکروچوں پر، سرینگر میں روزانہ کی بنیاد پر ہندو بسائے جا رہے ہیں اسک...