Neet Exams students protest aur moodi government

 مودی حکومت کو ایک دہائی سے زائد وقت ہوچکا ہے حکومت کرتے ہوئے اور وہ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ انکے دور حکومت میں بھارت نے سب سے ذیادہ ترقی کی 

Shining India

کے نام سے وہ فخریہ اپنی اشتہاری مہم چلاتے ہیں لیکن جگہ جگہ بڑے بڑے بینر اور پوسٹر لگانے سے کیا واقعی انکی کارکردگئ عوام کو پسند آرہی ہے یہی اصل سوال ہے۔ 

حالیہ واقعات میں بھارت کے طلباء 

Neet Exams 

کے پیپر لیک ہونے کی خبر سن کر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمندر پرساد سے استعفی لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مگر بات یہاں تک پہنچی کیسے۔  نیٹ امتحان جیسے پاکستان میں میڈیکل کے امتحان کیلئے داخلہ ٹیسٹ لیا جاتا ہے ویسے ہی بھارت میں اسے نیٹ امتحان کہا جاتا ہے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے کہ وہ طلباء جو شدید ترین مقابلے کے بعد پورا سال محنت کرکے بھی چند نمبروں سے ڈاکٹر بننے کا خواب پورا نہیں کرپاتے ان کو پتہ چلے کہ جس امتحان کی تیاری میں انہوں نے راتوں کی نیند دن کا چین برباد کیا وہ امتحان کچھ پیسے والے طلباء نا صرف خرید چکے ہیں بلکہ صرف وہی سوال پڑھ کر امتحان دے کر شائد آپکی ساری محنت چرا کر آپکا خواب بھی چکنا چور کردیں گے  

اب تک بارہ ایسے طلباء خود کشی کر چکے ہیں جن پر یہ خبر بجلی بن کر گری۔ یہ احتجاج شروع ہوا مگرنہ میڈیا نے اسکو اہمیت دی نا ہی حکومت انڈیا نے۔ بچوں میں غم و غصہ بڑھتا گیا تو ان مظلوم بچوں کے والدین بھی پیچھے نہ رہے جنکے بچوں نے اس امتحان کے پیچھے جان دے دی۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اس احتجاج کو بڑھایا تو یہ ہجوم قابو سے باہر ہوتا گیا یہاں تک کے دہلی میں پولیس ناکام رہی ان حتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں ۔ طلباء جنکی عمریں ابھی اٹھارہ سال سے بھی کم ہیں شدید غم و غصے کا شکار ہیں اسکے باوجود وہ قانون ہاتھ میں نہیں لے رہے انکے پاس ہتھیار نہیں وہ پولیس پر جوابی حملہ نہیں کررہے اسکے باوجود پولیس نے اس احتجاج کو ختم کرنے کیلئے بچوں پر لاٹھی چارج کیا ۔ جس سے بچے زخمی ہوئے۔ 

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ہے جمہوریت؟

خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے والے بھارت میں مطلق العنان مودی کی حکومت ہے جو کسی بھی احتجاج کو خاطر میں نہیں لارہی ۔ کتنا مشکل کام تھا ایک کمیٹی تشکیل دے کر بچو ں کے مطالبات سننا اور جائز مطالبات کو مان کر ایک آزاد اور منصفانہ تحقیق کروانا اس معاملے کی۔ مگر مودی حکومت کیلئے عوام  کیڑے مکوڑوں سے ذیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ ایک منسٹر ایک مدعا ایک حل اب ایک ایسا گنجل بن چکا ہے جس میں وقت کے ساتھ مدعے اور لوگ بڑھتے جارہے ہیں۔ 

سماجی کارکن ، ٹی وی فلم کے فنکار عام عوام سب اس احتجاج کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ صرف دہلی ہی نہیں دیگر شہروں میں بھی کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج بڑھتا جا رہا ہے۔

کہیں سکھ کسان اٹھ آئے ہیں کہیں مانی پور کے حالات پر بات ہو رہی ہے۔ جنگ 2025 میں صاف مودی  حکومت مکر گئ کہ اسکے کوئی جہاز نہیں گرے مگر ایک سال کے بعد  یہ مان لیا کہ چھے جہاز کھو دیئے ہیں انکی حکومت میں۔ ان جہازوں کے پائلٹ کہاں ہیں؟ اس جنگ میں مودی سرکار کی جانب سے ملک کیلئے جان قربان کردینے والے ان پائلٹوں کی شہادت ہوئئ یانہیں کون سے پائلٹ تھے مودی سرکار سے اب ان کے ناموں پر بھی سوال ہو رہا ہے اور یہ بھی سوال ہو رہا ہے کہ آخر اپنے ہی ملک کے شہید پائلٹوں کو کیوں بے نام و نشان چھوڑا گیا؟انکے گھر والوں کو انکے پیاروں کے بارے میں درست خبر کیوں فراہم نہیں کی گئ؟ 

اب مسلمانوں پر ہونے والے ظلم  وستم کا ذکر بھی ہو رہا ہے۔ اب یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے شائننگ انڈیا کے دعوے کے ساتھ ملک میں غربت اور فقر اتنا کیسے بڑھ گیا؟ 

بات کہاں سے شروع ہوئئ  اور کہاں تک بڑھتی جا رہی ہے۔ وہی معاملہ جو چند بچوں کی بات سن کر کسی ایک حتمی فیصلے پر ختم ہوسکتا تھا اب پورے ملک کے احتجاجی مظاہروں میں ڈھل کر مودی حکومت کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے  ایک بڑے انقلاب کی توقع کی جارہی ہے۔ اور جو حالات ہیں یہ شائد صرف مودی کی سرکار ہی نہیں لے ڈوبیں گے بلکہ بھارت کی دیگر ریاستوں بشمول کشمیر مانی پور ناگالینڈ میں ہونے والے بھارتی ظلم و ستم پر بھی بات ہوگی۔ وہ بھارت جس نے پچھلے کئی مہینوں پاکستا ن کے حالات اپنےخراب کر نے کی کوشش کی پاکستان کے مسائل کو اپنے میڈیا پر اپنی مرضی کے بیانئے کے ساتھ کوریج دی اب اپنے ہی ملک کے اس احتجاج پر بے بس ہے۔ 

یہاں پاکستان کے وزیرسے ان پر تبصرہ کرنے کو کہا تو ایک ذمہ دار ملک کے نمائندے کے طور پر انہوں نے اسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔ 

کیا ہمیں اتنی اعلی ظرفی دکھانے کی ضرورت ہے؟ کیا یہ درست وقت نہیں کہ بھارتی حکومت کا کم عمر طلباء پر تشدد کو بنیاد بناتےہوئے بھارت  کے کشمیریوں پر ظلم و ستم کو عالمی سطح پر بیان کیا جائے؟ عالمی رائے عامہ ہموار کی جائے مودی کے آمرانہ طرز حکومت پر ؟ اسکی حکومت عالمی امن ہی نہیں خود بھارتیوں کیلئے ایک مکمل خطرہ ہے یا ہم اعلی ظرفی دکھاتے ہوئے بس ایک اورپاکستان پر بھارتی حملے کا انتظار کریں ۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نیکی کر ڈیم میں ڈالnaiki kr dam main daal

Do you know that Pakistani Muslim girls dont wear Hijab forcefully?

وزیر اعظم خاموش۔۔۔۔