محمد یوسف نے بالکل غلط نہیں کہا۔۔

PSL پاکستان

اس وقت جاری و ساری ہے ۔ کوئی حیرت نہیں پورا پاکستان اس کو ذوق و شوق سے دیکھ رہا ہے۔ لیکن اصل مسلئہ تب پیدا ہوا جب پشاور ذلمی کے میچ کے دوران کمنٹری پشتو میں کی گئ۔ 

پشتو پشاور میں بولی جانے یا خیبر پختونخواہ میں بولی جانے والی زبان ہے لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ خیبر پختونخواہ میں صرف پشتو ہی بولی جاتی ہے یا پشاور زلمی مکمل طور پر پشتو بولنے والوں پر مشتمل ہے یا پشاور ذلمی کے میچ پاکستان میں صرف پشتو بولنے والے لوگ دیکھ رہے ہیں۔ 

پاکستان جیسا ملک جہاں ہر دو کلومیٹر پر زبان کا لہجہ اور مزید دو کلومیٹر شامل کریں تو زبان ہی بدل جاتی ہے۔ ایسے علاقے میں جہاں بھانت بھانت کی نسل زبان تمدن و معاشرتی اختلاف موجود ہوں وہاں ایسے اختلافات کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے ایک ایسی زبان میں کمنٹری کرنا جس کے شائقین محدود تعداد میں ہی ہیں۔

اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دے کر اسی لسانی مسلئے کا خاتمہ کیا گیا تھا کہ پوری قوم ایک زبان سمجھتی ہے اور ایک ہوجاتی ہے۔ پی ایس ایل پاکستان کا برانڈ ہے اگر یہ پاکستان کی نمائندگی ہے تو اردو پاکستا ن کی قومی زبان ہے کراچی سے کشمیر تک اردو سمجھی جاتی ہے یہ زبان ہمیں جوڑے ہوئے ہے۔ اگر تو اسکے سوا آپ نے مقامی زبانوں کو بھی نمائندگی دینی ہے تو پھرصرف پشاور زلمی کے میچ میں پشتو کی نمائندگی کیوں؟ ہر شہر میں درجن سے ذائد زبانیں بولنے والے موجود ہیں ہر شہر کی ہر زبان کو برابر نمایندگی دی جانئ چاہیئے۔یہ وہ مدعا ہے  جس پر محمد یوسف نے اعتراض اٹھایا

ان کا کہنا تھا کہ اگر پشاور کے میچ میں پشتو کمنٹری ہو رہی ہے تو پھر ملتان کے میچ میں سرائیکی کیوں نہں


ں؟ لاہور کے میچ میں پنجابی کیوں نہیں؟ حیدرآباد کے میچ میں سندھی کمنٹری کیوں نہیں ہو رہی؟

انہوں نے کہا کہ صرف ایک زبان میں کمنٹری کروانا باقی زبانوں کے ساتھ زیادتی ہے

اور انکی بات سو فیصد سچ ہے۔ ایسا ہے تو پھر ایسا ہی سہی۔ 


  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Do you know that Pakistani Muslim girls dont wear Hijab forcefully?

وزیر اعظم خاموش۔۔۔۔

آن لائن نظام تعلیم منحوس طلباء